Skip to main content

30 Verses from Holy Quran that proves the death of Isa (as)

Download These Images in .jpeg HERE

وفات مسیح پر حضرت ابن عباس ؓ کا عقیدہ

  

سیدناحضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سورۃآل عمران کی  آیت نمبر ۵۶


کا ترجمہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔ مُمِیْتُکَ ۔یعنی مُتَوَفِّیْکَ کا مطلب ہے میں تجھے موت دینے والا ہوں ۔
                          (بخاری کتاب التفسیر سورۃ المائدہ باب مَاجَعَلَ اللہُ مِنْ بَحِیْرَۃ۔۔۔)


                         استدلال از حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفۃ المسیح الرابع 


اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ جب یہودیوں نے حضرت مسیح ؑ کی سخت مخالفت  کی اور ان کو قتل کرنا چاہا اور قسم  قسم کی تکالیف دینا شروع کیں تو اللہ تعالیٰ نے مسیح ناصری سے چار وعدے کئے جو ایک خاص ترتیب میں واقع ہوئے ہیں ۔
                                          یعنی (1)وفات (2)رفع (3)تطہیر (4)غلبہ۔
            پس اسی ترتیب کے مطابق اللہ تعالیٰ نے پہلے حضرت عیسیٰ ؑ کو وفات دی پھر ان کا رفع کیا ۔ پھر قرآن کے ذریعہ یہودیوں نے آپ پر جو الزامات لگائے تھے ان سے آپ کو پاک کیا پھر چوتھے وعدہ کے مطابق مسیح ؑ کے تابعداروں کو  یعنی عیسائیوں اور مسلمانوں کو آپ کے منکرین یعنی یہود پر قیامت تک غلبہ دیا جو ترتیب اللہ تعالیٰ نے قرآنی الفاظ کی رکھی ہے اسی کے مطابق جب پچھلے تین وعدے مسلمہ طور پر پورے ہو چکے ہیں تو ضرور ماننا پڑتا ہے کہ پہلاوعدہ جو مسیح کی وفات سے متعلق تھا وہ بھی پورا ہو چکاہے ۔
            سوال :۔بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ یہاں جو لفظ مُتَوَفِّیْکَ کا آیا ہے اس کا مصدر ہے تَوَفّی اور تَوَفّی کے معنے قبض روح یعنی وفات کے نہیں بلکہ اس کے معنے سارے کا سارا اٹھا لینا کے ہیں۔
            اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ قرآن شریف کے 23مقامات میں لفظ توفی قبض روح کے معنوں میں استعمال ہوا ہے ۔ اول سے آخر تک سارا قرآن پڑھ لیں ۔ کہیں قبض روح کے بغیر اس لفظ کا استعمال نہیں ہوا۔ لہٰذا یہ ہٹ دھرمی ہے کہ توفّی کا لفظ جب کسی اور انسان، رسول حتّٰی کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے لئے استعمال ہو وہاں اسکے معنے قبض روح کے لئے جائیں اور جب مسیح ناصری ؑ کے لئے استعمال ہو وہاں سارے کا سارا اٹھا لینا مراد لیا جائے۔
            دوسرا جواب یہ ہے کہ بخاری شریف میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ جو جلیل القدر صحابی ہیں انہوں نے اس کی تشریح کی ہے :۔
            ’’قَالَ ابْنُ عَبَّاس مُتَوَفِّیْکَ اَیْ مُمِیتُکَ ۔      (صحیح بخاری کتاب التفسیر باب ما جعل اللہ من بحیرۃ۔)
            یعنی مُتَوَفِّیْکَ کے معنے مُمِیتُکَ ہیں یعنی مَیں تجھے وفات دوں گا۔
                        پھر یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اگر مُتَوَفِّیْکَ کا معنٰی سارے کا سارا اٹھا نا ہے تو اس آیت میں رَافِعُکَ کا لفظ مہمل اور بے فائدہ ماننا پڑتا ہے ۔۔۔

حضرت مرزا غلام احمدصاحب قادیانی مسیح موعود ؑ بانی سلسلہ احمدیہ  نے لفظ توفّی پر ایک چیلنج شائع کیا ہے اور اس پر بھاری انعام مقرر کیا ہے ۔ جس کا جواب آج تک دنیا کا کوئی عالم نہیں دے سکا۔ اور وہ یہ ہے :۔

       جب خدا فاعل ہو اور صرف انسان مفعول بہٖ ہو تو توفّی کے معنے سوائے قبض روح کے ہر گز اور کوئی نہیں ہو سکتے ۔ 
                                                     (ازالہ اوہام ۔روحانی خزائن جلد 3صفحہ 602)
  


بخاری ٹائٹل پیج
بخاری ٹائٹل پیج

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

Aloe and Myrrh: modern day analysis of two ancient herbs

By Arif Khan .. Edited by  Jonathan Ghaffar   Aloe and Myrrh are mentioned in the Gospel as being present immediately after the body of Hadhrat Isa (Jesus) was tended to by Nicodemus and Joseph of Arimathea; the presence of these medicinal plants has often been explained by Christian scholars as being part of an embalming process, whereas Hadhrat Masih Ma’ud (Mirza Ghulam Ahmad) in his treatise  “Masih Hindustan Mein”  (“Jesus in India”) described how they were essential ingredients for an ointment applied to Jesus’ wounds. What role do these herbs play today? Can an exploration of their modern day uses throw light on possible events 2000 years ago? The mention of the herbs appears in the Crucifixion story as it is recorded in the Gospel of John:

30 Verses from Holy Quran that proves the death of Isa (as)

Download These Images in .jpeg HERE

First excerpt from Chapter 1 of the book "Jesus In India"

Written by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani - The Promised Messiah: Let it be noted that though Christians believe that Jesus (peace be on him) after his arrest through the betray al by Judas Iscariot, and crucifixion -- and resurrection -- went to heaven, yet, from the Holy Bible, it appears that this belief of theirs is altogether wrong. Matthew (chapter 12, verse 40) says that just as Jonah was three days and three nights in the belly of the fish, so the Son of Man shall be three days and three nights in the bowels of the earth. Now it is clear that Jonah did not die in the belly of the fish; the utmost that happened was that he was in a swoon or a fit of fainting. The holy books of God bear witness that Jonah, by the grace of God,