Skip to main content

حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا چیلینج

 اگر پوچھا جائے کہ اس بات کا ثبوت کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چڑھ گئے تھے؟ تو نہ کوئی آیت پیش کر سکتے ہیں اور نہ کوئی حدیث دکھلا سکتے ہیں۔ صرف نزول کے لفظ کے ساتھ اپنی طرف سے آسمان کا لفظ ملا کر عوام کو دھوکہ دیتے ہیں۔ مگر یاد رہے کہ کسی حدیث مرفوع متّصل میں آسمان کا لفظ پایا نہیں جاتا اور نزول کا لفظ محاورات عرب میں مسافر کے لئے آتا ہے اور نزیل مسافر کو کہتے ہیں۔ چنانچہ ہمارے ملک کا بھی یہی محاورہ ہے کہ ادب کے طور پر کسی وارد شہر کو پوچھا کرتے ہیں کہ آپ کہاں اترے ہیں اور اس بول چال میں کوئی بھی یہ خیال نہیں کرتا کہ یہ شخص آسمان سے اترا ہے۔ اگر اسلام کے تمام فرقوں کی حدیث کی کتابیں تلاش کرو تو صحیح حدیث تو کیا کوئی وضعی حدیث بھی ایسی نہیں پاؤ گے جس میں یہ لکھاہو کہ حضرت عیسیٰ جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چلے گئے تھے اور پھر کسی زمانہ میں زمین کی طرف واپس آئیں گے۔ اگر کوئی ایسی حدیث پیش کرے تو ہم ایسے شخص کوبیس ہزار روپیہ تک تاوان دےسکتےہیں اور توبہ کرنا اور تمامکتابوں کا جلا دینا اس کے علاوہ ہوگا۔


Popular posts from this blog

If Jesus did not die upon the cross: A study in evidence

The Last Supper This is a small booklet with a very descriptive title, written by an Australian Judge, Ernest Brougham Docker, in 1920. He became a judge of the District Court and chairman of Quarter Sessions for the north-western district in 1881. He retired in 1918 after the passage of the Judges Retirement Act.
He examines the limitations in the so called testimony of the apostles about resurrection in his book. He makes several strong points against resurrection of Jesus, may peace be on him, but one that can be described in a few lines is quoted here:
“He (Jesus) expressed his forebodings to His disciples, I firmly believe; I am equally convinced that He did not predict His rising again. The Conduct of the disciples after crucifixion shows that they had no expectation of a resurrection; and it is altogether incredible that they could have forgotten a prediction so remarkable.”
There are 14 parts of this short booklet by Ernest Brougham Docker, published in 1920. The fifth part concl…

وفات مسیح پر حضرت ابن عباس ؓ کا عقیدہ

سیدناحضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سورۃآل عمران کی  آیت نمبر ۵۶

کا ترجمہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔ مُمِیْتُکَ ۔یعنی مُتَوَفِّیْکَ کا مطلب ہے میں تجھے موت دینے والا ہوں ۔

30 Verses from Holy Quran that proves the death of Isa (as)

Download These Images in .jpegHERE