Ahmadi Muslims hold the unique belief that Jesus (peace be upon him) survived the crucifixion and travelled towards India to continue his ministry among the Lost Tribes of Israel. Furthermore, they claim that his tomb, containing his body, has been recently re-discovered in India where it can be seen to this day. Ahmadi Muslims also assert that this belief is not only upheld by the Holy Quran and the Sayings of Muhammad saw, but even by the Holy Bible itself.
6 April 2014

وفات مسیح پر حضرت ابن عباس ؓ کا عقیدہ

  

سیدناحضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سورۃآل عمران کی  آیت نمبر ۵۶


کا ترجمہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔ مُمِیْتُکَ ۔یعنی مُتَوَفِّیْکَ کا مطلب ہے میں تجھے موت دینے والا ہوں ۔
                          (بخاری کتاب التفسیر سورۃ المائدہ باب مَاجَعَلَ اللہُ مِنْ بَحِیْرَۃ۔۔۔)


                         استدلال از حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفۃ المسیح الرابع 


اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ جب یہودیوں نے حضرت مسیح ؑ کی سخت مخالفت  کی اور ان کو قتل کرنا چاہا اور قسم  قسم کی تکالیف دینا شروع کیں تو اللہ تعالیٰ نے مسیح ناصری سے چار وعدے کئے جو ایک خاص ترتیب میں واقع ہوئے ہیں ۔
                                          یعنی (1)وفات (2)رفع (3)تطہیر (4)غلبہ۔
            پس اسی ترتیب کے مطابق اللہ تعالیٰ نے پہلے حضرت عیسیٰ ؑ کو وفات دی پھر ان کا رفع کیا ۔ پھر قرآن کے ذریعہ یہودیوں نے آپ پر جو الزامات لگائے تھے ان سے آپ کو پاک کیا پھر چوتھے وعدہ کے مطابق مسیح ؑ کے تابعداروں کو  یعنی عیسائیوں اور مسلمانوں کو آپ کے منکرین یعنی یہود پر قیامت تک غلبہ دیا جو ترتیب اللہ تعالیٰ نے قرآنی الفاظ کی رکھی ہے اسی کے مطابق جب پچھلے تین وعدے مسلمہ طور پر پورے ہو چکے ہیں تو ضرور ماننا پڑتا ہے کہ پہلاوعدہ جو مسیح کی وفات سے متعلق تھا وہ بھی پورا ہو چکاہے ۔
            سوال :۔بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ یہاں جو لفظ مُتَوَفِّیْکَ کا آیا ہے اس کا مصدر ہے تَوَفّی اور تَوَفّی کے معنے قبض روح یعنی وفات کے نہیں بلکہ اس کے معنے سارے کا سارا اٹھا لینا کے ہیں۔
            اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ قرآن شریف کے 23مقامات میں لفظ توفی قبض روح کے معنوں میں استعمال ہوا ہے ۔ اول سے آخر تک سارا قرآن پڑھ لیں ۔ کہیں قبض روح کے بغیر اس لفظ کا استعمال نہیں ہوا۔ لہٰذا یہ ہٹ دھرمی ہے کہ توفّی کا لفظ جب کسی اور انسان، رسول حتّٰی کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے لئے استعمال ہو وہاں اسکے معنے قبض روح کے لئے جائیں اور جب مسیح ناصری ؑ کے لئے استعمال ہو وہاں سارے کا سارا اٹھا لینا مراد لیا جائے۔
            دوسرا جواب یہ ہے کہ بخاری شریف میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ جو جلیل القدر صحابی ہیں انہوں نے اس کی تشریح کی ہے :۔
            ’’قَالَ ابْنُ عَبَّاس مُتَوَفِّیْکَ اَیْ مُمِیتُکَ ۔      (صحیح بخاری کتاب التفسیر باب ما جعل اللہ من بحیرۃ۔)
            یعنی مُتَوَفِّیْکَ کے معنے مُمِیتُکَ ہیں یعنی مَیں تجھے وفات دوں گا۔
                        پھر یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اگر مُتَوَفِّیْکَ کا معنٰی سارے کا سارا اٹھا نا ہے تو اس آیت میں رَافِعُکَ کا لفظ مہمل اور بے فائدہ ماننا پڑتا ہے ۔۔۔

حضرت مرزا غلام احمدصاحب قادیانی مسیح موعود ؑ بانی سلسلہ احمدیہ  نے لفظ توفّی پر ایک چیلنج شائع کیا ہے اور اس پر بھاری انعام مقرر کیا ہے ۔ جس کا جواب آج تک دنیا کا کوئی عالم نہیں دے سکا۔ اور وہ یہ ہے :۔

       جب خدا فاعل ہو اور صرف انسان مفعول بہٖ ہو تو توفّی کے معنے سوائے قبض روح کے ہر گز اور کوئی نہیں ہو سکتے ۔ 
                                                     (ازالہ اوہام ۔روحانی خزائن جلد 3صفحہ 602)
  


بخاری ٹائٹل پیج
بخاری ٹائٹل پیج

About Me

Kashif Khalid is a student in Jamia Ahmadiyya Qadian. He had devoted his life to the service of Ahmadiyyat the true Islam . Add him on: Facebook & Twitter

  • Share to Facebook
  • Share to Twitter
  • Share to Google+
  • Share to Stumble Upon
  • Share to Evernote
  • Share to Blogger
  • Share to Email
  • Share to Yahoo Messenger
  • More...

1 comments: